غزل
آخری بار جب ملے ہم لوگ
شہر میں ہر جگہ دکھے ہم لوگ
بات ہوتی نہیں تھی آپس میں
پھر بھی اک دوسرے کے تھے ہم لوگ
اس نے محفل میں بیٹھنا تھا جہاں
اس طرف دیکھتے رہے ہم لوگ
ایک نمبر سے کال کیا آئی
رات بھر جاگتے رہے ہم لوگ
رہنما راہ میں فرار ہوا
یونہی اک سمت چل دیے ہم لوگ
(اسامہ آزاد)